Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2] (تاریخ صوفیائے بہار) | An Encyclopedia of Sufis in Bihar |
![Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2] (تاریخ صوفیائے بہار)](https://khanquah.com/wp-content/uploads/2025/11/tareekh-sufiya-e-bihar-full-page-780x470.jpg)
Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2] تاریخ صوفیائے بہار
![Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2] (تاریخ صوفیائے بہار)](https://khanquah.com/wp-content/uploads/2025/11/tareekh-sufiya-e-bihar-fast-1-710x1024.jpg)
تصوف کی تاریخی جڑیں بہار میں
بہار میں صوفیائے کرام کی تاریخ تقریباً نو صدیوں پر محیط ہے۔ مختلف امصار و دیار سے بہار آنے والے اور اسی سرزمین سے جنم لینے والے مشایخِ کرام نے یہاں دین و روحانیت کے چراغ جلائے۔ ہر سلسلے اور ہر مزاج کے صوفیاء نے بہار کو اپنا مرکزِ فیض بنایا۔
یہ وہ سرزمین ہے جہاں تصوف نے گفت و شنید سے آگے بڑھ کر تحریر و تحقیق کا جامہ پہنا۔ جذب و سکر کی اصلاح کے بجائے فکری بیداری اور عملی اصلاح کا پیغام یہیں سے اٹھا۔
نظامِ خانقہی، تعلیمِ باطن، اور فاصلاتی نظام تعلیم کے اولین نقوش بہار ہی میں دیکھے گئے۔ بہار کے خانقاہی نظام نے جس معیار کی بنیاد رکھی، وہ آج بھی پوری دنیا کے لیے مثال ہے۔
بہار میں صوفیائے کرام کی تذکرہ نویسی
بہار میں صوفیائے کرام کی تذکرہ نویسی کا سلسلہ بھی صدیوں پرانا ہے۔ ہندوستان میں ’’سیر الاولیاء‘‘ کے بعد بہار میں برہان الاتقیاء اور مناقب الاصفیاء جیسی تصانیف سامنے آئیں۔
اگرچہ بہار میں صوفیاء کے تذکرے تو لکھے گئے، مگر ریاستی سطح پر کوئی جامع تاریخی انسائیکلوپیڈیا منظر عام پر نہیں آیا تھا۔ اس خلا کو پُر کرنے کا عظیم کارنامہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی (سجادہ نشین خانقاہ منعمیہ) نے انجام دیا۔
Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2] — ایک مستند تاریخی انسائیکلوپیڈیا
حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی کی کوششوں سے تاریخ صوفیائے بہار جلد دوم (Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2]) کا اجرا 2020ء میں حضرت قطب العالم مخدوم شاہ محمد منعم پاکؒ کے 256 ویں عرس مبارک کے موقع پر ہوا۔
یہ تصنیف دراصل An Encyclopedia of Sufis in Bihar ہے، جو بہار میں صوفیائے کرام کی تاریخ کو ایک منظم و علمی شکل میں پیش کرتی ہے۔
کتاب کی خصوصیات
- مجموعی طور پر یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے۔
- سب سے پہلے جلد دوم (Volume 2) 448 صفحات پر شائع ہوئی۔
- اس جلد میں بہار کے مختلف علاقوں میں مدفون 33 بزرگوں کا تفصیلی تذکرہ شامل ہے۔
- کتاب کو ایک علمی، تحقیقی اور تاریخی انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت حاصل ہے۔
علمی و روحانی اہمیت
“Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2]” نہ صرف بہار کی روحانی تاریخ کو محفوظ کرتی ہے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے تحقیق، تصوف اور ثقافتی ورثے کا بنیادی ماخذ بن گئی ہے۔
یہ کتاب Syed Shah Shamimuddin Munemi کی فکری بصیرت اور تاریخی ذوق کی روشن مثال ہے، جو بہار کے صوفی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں سنگ میل ثابت ہوئی۔
![Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2] (تاریخ صوفیائے بہار)](https://khanquah.com/wp-content/uploads/2025/11/tareekh-sufiya-e-bihar-fast-2-709x1024.jpg)
“Tareekh Sufiya-e-Bihar [Vol.2]” کس موضوع پر ہے؟
یہ کتاب بہار میں صوفیائے کرام کی تاریخ پر مبنی ایک جامع انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں مختلف مشایخِ کرام کے حالات و تعلیمات کا تفصیلی ذکر شامل ہے۔
اس کتاب کے مصنف کون ہیں؟
اس کتاب کے مرتب حضرت ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی ہیں، جو خانقاہ منعمیہ کے سجادہ نشین ہیں۔
“Tareekh Sufiya-e-Bihar” کی کتنی جلدیں ہیں؟
یہ تصنیف کل چار جلدوں پر مشتمل ہے، جن میں سے جلد دوم (Volume 2) سب سے پہلے شائع ہوئی۔
کتاب کی خصوصیت کیا ہے؟
یہ تصنیف بہار میں تصوف اور خانقاہی نظام کی مستند اور علمی تاریخ پیش کرتی ہے، جو ایک مکمل An Encyclopedia of Sufis in Bihar کی حیثیت رکھتی ہے۔



