Book

Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer القول المنیر فی جواز السّماع بالمزامیر

2018

Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer القول المنیر فی جواز السّماع بالمزامیر : ساز کے ساتھ مجلس سماع کی لاجواب تحقیق

Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer

تعارف

اسلامی علمی روایت میں تصوف اور فقہ کی کئی اہم کتابوں نے امت کو علم و عرفان کی راہ دکھائی ہے۔
انہی نادر علمی تصانیف میں سے ایک ہے “Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer”، جسے Syed Ghulam Qadir Asdaqi چشتی (م 1417ھ) نے تحریر فرمایا۔
یہ کتاب darul ifta Jamia Munemia سے 2018ء میں پہلی بار شائع ہوئی اور سماع بالمزامیر کے جواز پر ایک مدلل و تحقیقی جواب فراہم کرتی ہے۔


غنا و مزامیر کا اسلامی تجزیہ

قرآن کریم اور احادیث میں جہاں حرام اشیاء کا ذکر آیا ہے، وہاں غنا و مزامیر کا نام تک نہیں۔
تحریم کے دعوے دار دراصل بعض آیات و احادیث کی من مانی تشریح کے ذریعے اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، سلف و خلف کی ایک بڑی جماعت نہ صرف اس کے جواز کی قائل ہے بلکہ اس کے روحانی اثرات کو بھی تسلیم کرتی ہے۔
یہ جماعت سماع کو رقتِ قلب، عشقِ الٰہی، شوقِ معرفت اور تہذیبِ نفس کا ذریعہ سمجھتی ہے۔


سماع بالمزامیر کا پس منظر

خود رسول اکرم ﷺ سے سماع بالمزامیر اور بلا مزامیر دونوں طرح کے واقعات ثابت ہیں۔
صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین میں سے ایک نمایاں طبقہ اس عمل کا عامل اور عادی رہا۔

اس کے مخالفین کے ہاں تضاد واضح ہے —
جیسے منکرینِ وسیلہ پہلے کلی انکار کرتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ وسیلہ صرف اعمال صالحہ کا ہے، صالحین کا نہیں۔
اسی طرح کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سماع تو درست ہے مگر بالمزامیر نہیں، حالانکہ تاریخی شواہد اس کے برعکس ہیں۔


سماع بالمزامیر کی روحانی حقیقت

سماع بالمزامیر صوفیاء کرام کے تربیتی نصاب کا ایک مرکزی جز ہے۔
یہ دلوں میں نرمی پیدا کرتا ہے، روحانی کیفیت بیدار کرتا ہے اور بندے کو قربِ الٰہی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

یہ عمل معصیت سے روکنے والا اور عشقِ الٰہی میں اضافے کا سبب ہے۔
اسی بنا پر صوفیاء کرام نے اس کو تزکیۂ نفس اور سلوک و معرفت کی بنیاد قرار دیا۔


Syed Ghulam Qadir Asdaqi کی علمی مہارت

Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer دراصل ایک فقہی فتویٰ ہے، جو حضرت Syed Ghulam Qadir Asdaqi نے 1409ھ میں ایک استفتاء کے جواب میں تحریر کیا۔
یہ استفتاء زبیر عالم اصدقی کی جانب سے بارگاہِ صوفیہ اصدقیہ میں پیش کیا گیا تھا۔

کتاب کے ہر باب میں مصنف کی قوتِ استدلال، گہرے مطالعے اور فقہی بصیرت کی جھلک نمایاں ہے۔
یہ تصنیف علمِ حدیث اور فقہ دونوں میدانوں میں مصنف کے بلند مقام کو ظاہر کرتی ہے۔


Darul Ifta Jamia Munemia کی علمی خدمات

darul ifta Jamia Munemia نے ہمیشہ ایسے علمی و تحقیقی کاموں کو فروغ دیا جو امت کی فکری رہنمائی کریں۔
القول المنیر کی اشاعت بھی اسی علمی تسلسل کا حصہ ہے، جس کی ترتیب و تقدیم حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی (سجادہ نشین خانقاہ منعمیہ قمریہ میتن گھاٹ) نے فرمائی۔

یہ کتاب تصوف کے چاہنے والوں، فقہ کے طلبہ، اور سماع کے ناقدین سب کے لیے ایک جامع علمی رہنما ہے۔


نتیجہ

Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer اسلام میں سماع بالمزامیر کے جواز کا روشن ثبوت ہے۔
Syed Ghulam Qadir Asdaqi کی یہ تصنیف صرف فقہی نہیں بلکہ روحانی بصیرت سے بھی مزین ہے،
جبکہ darul ifta Jamia Munemia کی اشاعت نے اس علمی ورثے کو نئی زندگی عطا کی۔

یہ کتاب ہر اس قاری کے لیے اہم ہے جو تصوف، شریعت، اور روحانیت کے امتزاج کو سمجھنا چاہتا ہے۔

Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer

Al Qaul ul Muneer Fi Jawazis Sama Bil Mazameer کیا ہے؟

یہ سید غلام قادر اصدقی کی تحریر کردہ فقہی و روحانی کتاب ہے جو سماع بالمزامیر کے جواز کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتی ہے۔

یہ کتاب کہاں سے شائع ہوئی؟

یہ کتاب darul ifta Jamia Munemia سے 2018ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔

Syed Ghulam Qadir Asdaqi کا علمی مقام کیا ہے؟

آپ بلند پایہ فقیہ، محدث اور صوفی عالم تھے جنہوں نے فقہ و تصوف کو ایک حسین امتزاج میں پیش کیا۔

کیا سماع بالمزامیر اسلام میں جائز ہے؟

القول المنیر کے مطابق، اگر نیت پاکیزہ ہو اور مقصد روحانی ارتقا ہو تو سماع بالمزامیر جائز اور باعثِ ثواب عمل ہے۔

اس کتاب سے کن لوگوں کو فائدہ ہوگا؟

یہ تصنیف صوفیاء، علمائے فقہ، طلبہ، اور عام قارئین سب کے لیے یکساں مفید ہے جو سماع کے اسلامی پہلو کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button