Book

Hujjat ul Aarefeen حجۃ العارفین

2018

Hujjat ul Aarefeen حجۃ العارفین: صوفیائے بہار اور سلسلہ ابوالعلائیہ کی علمی روایت

Hujjat ul Aarefeen

تعارف: صوفیائے بہار کی روحانی روایت

Sufiya e Bihar کی روحانی خدمات ہندوستان کی علمی و فکری تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔
ان میں سے ایک قیمتی سرمایہ Hujjat ul Aarefeen ہے، جو Hayatullah Hasani Munemi کی تصنیف کردہ فارسی تذکرۂ صوفیہ ہے۔
یہ کتاب سلسلۂ ابوالعلائیہ کی تاریخ، تعلیمات اور سلوکی روایت کو نہایت جامع انداز میں پیش کرتی ہے۔


صوفی تذکروں کی ابتدا اور ارتقاء

ہندوستان میں صوفی تذکروں کا آغاز سیرالاولیاء سے ہوا، جو خواجہ نظام الدین اولیاءؒ (م725ھ) کے مرکز پر مبنی ایک عظیم تذکرہ ہے۔
اس کے بعد مناقب الاصفیاء میں حضرت شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیریؒ (م782ھ) اور فردوسی سلسلے کے مشایخ کا احاطہ کیا گیا۔

دونوں کتابوں میں تذکرہ نبی کریم ﷺ سے شروع ہوتا ہے اور مرکزی بزرگ کی حیات پر مکمل ہوتا ہے۔
یہ تذکرے اپنے قارئین کو پیرانِ طریقت کی احوال و تعلیمات سے روشناس کرانے کی کامیاب کوشش ہیں۔


مجموعہ تذکروں کا نیا مزاج

بعد کے دور میں صوفی تذکروں کا مزاج تبدیل ہوا۔ اب وہ کسی ایک سلسلے تک محدود نہیں رہے بلکہ مجمع السلاسل بن گئے۔
اسی طرز پر اخبار الاولیاء، ثمرات القدس، گلزار ابرار، اخبار الاصفیاء، مراۃ الاسرار، سفینۃ الاولیاء اور سکینۃ الاولیاء جیسی کتب منظرِ عام پر آئیں۔

1130ھ میں شیخ محمد اکرم نے اقتباس الانوار تحریر کی، جس میں چشتیہ صابریہ مشایخ کا تذکرہ شامل ہے۔
اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے 1204ھ میں “Hujjat ul Aarefeen” لکھی گئی — جو تصوف کے علمی سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہے۔


Hujjat ul Aarefeen — تذکرۂ صوفیہ و تاریخِ ابوالعلائیہ

Hujjat ul Aarefeen تین فصول پر مشتمل ایک فارسی تذکرہ ہے جسے Hayatullah Hasani Munemi نے 1024ھ میں حالتِ اعتکاف میں تصنیف فرمایا۔
یہ سلسلہ ابوالعلائیہ کا قدیم اور مستند ترین ماخذ ہے، جو نہ صرف سوانح نگاری بلکہ روحانی و فکری تجزیے کا بہترین امتزاج ہے۔

مصنف نے حضرت مخدوم شاہ حسن علیؒ (م1224ھ) اور حضرت مولانا حسن رضا رائے پوریؒ (م1215ھ) دونوں سے خرقۂ خلافت حاصل کیا۔
اس سے ان کی علمی و روحانی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔


فارسی سے اردو ترجمہ اور اسلوبِ بیان

اس نایاب کتاب کو پروفیسر حافظ رضوان اللہ آوری نے فارسی سے اردو میں منتقل کیا۔
ترجمے کی زبان سادہ، بامحاورہ اور دلکش ہے، جبکہ متن کا علمی معیار برقرار رکھا گیا ہے۔

اردو ترجمہ 2018ء میں خانقاہ منعمیہ قمریہ میتن گھاٹ سے شائع ہوا، جو آج کے قاری کو تصوف کی کلاسیکی روح سے جوڑتا ہے۔


موضوع و معنویت

Hujjat ul Aarefeen صرف تذکرہ نہیں بلکہ ایک مکمل صوفیانہ انسائیکلوپیڈیا ہے۔
اس میں سلسلۂ ابوالعلائیہ کے ائمہ، سلوکی مراتب، اور عشقِ حقیقی کی رموز تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔

یہ کتاب نظری و عملی تصوف، شریعت و طریقت، اور روحانیت و معرفت کے حسین امتزاج کی بہترین مثال ہے۔
مصنف کے مطالعہ، مشاہدہ اور تجزیے نے اسے ایک زندہ علمی دستاویز میں تبدیل کر دیا ہے۔


Sufiya e Bihar اور Hayatullah Hasani Munemi کا علمی ورثہ

Sufiya e Bihar نے ہمیشہ روحانیت، عشقِ رسول ﷺ، اور اخلاقِ محمدی کو اپنی تعلیمات کا مرکز بنایا۔
انہی صوفیاء میں Hayatullah Hasani Munemi کا نام ایک ممتاز فقیہ و صوفی کے طور پر آتا ہے،
جنہوں نے Hujjat ul Aarefeen کے ذریعے ابوالعلائیہ سلسلے کی فکری و روحانی بنیادوں کو مضبوط کیا۔


نتیجہ

Hujjat ul Aarefeen، تصوف کی تاریخ میں ایک نادر و مستند کتاب ہے جو Sufiya e Bihar کی علمی روایت کو زندہ رکھتی ہے۔
Hayatullah Hasani Munemi کی یہ تصنیف روحانیت، عشقِ الٰہی اور معرفتِ نفس کے دروازے کھولتی ہے —
اور آج بھی طالبانِ سلوک و معرفت کے لیے روشنی کا منبع ہے۔

Hujjat ul Aarefeen

Hujjat ul Aarefeen کس نے تصنیف کی؟

یہ کتاب حضرت Hayatullah Hasani Munemi نے 1024ھ میں حالتِ اعتکاف میں تصنیف فرمائی۔

یہ کتاب کس موضوع پر ہے؟

یہ سلسلۂ ابوالعلائیہ کے صوفیاء، ان کی سوانح، تعلیمات، اور روحانی مقامات پر مبنی ایک جامع تذکرہ ہے۔

Hujjat ul Aarefeen کا اردو ترجمہ کس نے کیا؟

اس کا اردو ترجمہ پروفیسر حافظ رضوان اللہ آوری نے کیا اور 2018ء میں خانقاہ منعمیہ قمریہ سے شائع ہوا۔

Sufiya e Bihar سے اس کتاب کا کیا تعلق ہے؟

یہ تصنیف بہار کے صوفیاء کی علمی و روحانی روایت کی نمائندہ ہے، خصوصاً سلسلۂ ابوالعلائیہ کی تاریخ پر مبنی ہے۔

یہ کتاب کن کے لیے مفید ہے؟

یہ تصوف، تاریخ، اور روحانیت کے طلبہ و محققین کے لیے نہایت اہم ماخذ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button