اخبار الاولیاء Akhbar ul Auliya

خاندانِ مجیبیہ کے معتبر ترین تذکروں میں سے ایک ہے۔ نصف تیرہویں صدی ہجری کے بعد ایک اور بیش قیمت تصنیف وجود میں آئی — حضرت سید شاہ عطا حسین فانیؔ دانا پوری ثم گیاوی (م1311ھ) کی تصنیف کیفیت العارفین، نسبت العاشقین۔
اسی علمی و روحانی تسلسل میں 1270ھ میں زیرِ نظر تذکرہ اخبار الاولیاء وجود میں آیا، جو سلسلہ منعمیہ ابوالعلائیہ کے بزرگوں کے حالات و مقامات پر مشتمل ہے۔
اخبار الاولیاء کی تالیف و اہمیت
اخبار الاولیاء کے مصنف قاضی محمد اسمٰعیل قدیمیؔ ہیں، جنہوں نے 1270ھ میں یہ نایاب تذکرہ مرتب کیا۔ اس میں قطب العصر اعلیٰ حضرت سید شاہ قمرالدین حسین منعمی ابوالعلائی (م1255ھ) پر خاص توجہ دی گئی ہے، ساتھ ہی ان کے ابوالعلائی اسلاف و اخلاف کا تفصیلی تذکرہ تین بحر اور چند فصول میں کیا گیا ہے۔
یہ کتاب اپنی نوعیت میں منفرد ہے کیونکہ اس کا بنیادی ماخذ “حجۃ العارفین” اور “کیفیت العارفین” ہیں، مگر مصنف نے اپنی معلومات اور تحقیقی اضافے بھی شامل کیے ہیں، جو تصوف کے محققین کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں۔
خانقاہِ منعمیہ اور اشاعت
اخبار الاولیاء کا ترجمہ و تدوین سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی (سجادہ نشیں خانقاہِ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ) نے انجام دیا۔
یہ کتاب 2002ء میں اشاعت خانقاہِ منعمیہ، میتن گھاٹ، پٹنہ سے شائع ہوئی، اور اس کا دوسرا ایڈیشن 2024ء میں منظر عام پر آیا۔
یہ نایاب نسخہ “تذکرۃ الاولیاء” اور “اخبار الاولیاء” کی شکل میں تصوفِ بہار کی تاریخ کا مستند حوالہ بن چکا ہے۔
تحقیقی و روحانی قدر و قیمت
اخبار الاولیاء کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں معاصر علما و مشایخ کے حالات و تبصرات بھی درج ہیں، جو اُس دور کے علمی و روحانی مزاج کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ جب بھی بہار میں صوفیہ کی تاریخ مرتب کی جائے گی، اخبار الاولیاء کو اس میں نمایاں مقام حاصل ہوگا۔
نتیجہ
تذکرۃ الاولیاء اور اخبار الاولیاء نہ صرف روحانی تاریخ کے اہم مراجع ہیں بلکہ خانقاہِ منعمیہ کی علمی روایت اور تصوفی تسلسل کی علامت بھی ہیں۔ ان تذکروں نے برصغیر کے صوفی ادب میں وہ روشنی پیدا کی جو آج بھی قلوب کو منور کرتی ہے۔
اخبار الاولیاء کے مصنف کون ہیں؟
اس تذکرے کے مصنف قاضی محمد اسمٰعیل قدیمیؔ ہیں جنہوں نے 1270ھ میں یہ کتاب تصنیف کی۔
اشاعت خانقاہ منعمیہ نے یہ کتاب کب شائع کی؟
پہلا ایڈیشن 2002ء میں اور دوسرا ایڈیشن 2025ء میں اشاعت خانقاہ منعمیہ، میتن گھاٹ، پٹنہ سے شائع ہوا۔
یہ کتاب تصوف کے محققین کے لیے کیوں اہم ہے؟
کیونکہ اس میں حجۃ العارفین اور کیفیت العارفین جیسے قدیم ماخذ کے ساتھ مصنف کی اپنی تحقیق بھی شامل ہے، جو صوفیانہ تاریخ کا نادر مواد فراہم کرتی ہے۔

اشاعت دوم





