Uncategorized

Maulood-e-Sharafi | مولودِ شرفی | First Urdu Biography

مولودِ شرفی — حضرت مخدومِ جہان پر پہلی اردو سوانح نگاری

Maulood-e-Sharafi

تعارف: مولودِ شرفی اور اس کے مؤلف

Maulood-e-Sharafi کے مؤلف حضرت سید المحققین عمدۃ المتوکلین الحاج سید شاہ عطا حسین فانیؔ قمرالمنعمی ابوالعلائی اپنے دور کے جلیل القدر عالم، شیخِ طریقت اور بلند پایہ ادیب تھے۔
آپ کی علمی، روحانی اور ادبی خدمات نے آپ کو مشاہیرِ صوفیہ میں ممتاز مقام عطا کیا۔

فارسی و اردو تذکرہ نگاری میں آپ کی 40 سے زیادہ تصانیف شامل ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • تصوف و سلوک
  • ملفوظات
  • ادعیہ
  • خطبات و سفرنامے
  • دیوان و مثنویات

پچاس برس تک آپ نے گیا (بہار) میں رشد و ہدایت کا چراغ روشن رکھا اور ہزاروں مریدین و مسترشدین کو علمی و روحانی فیض عطا کیا۔


مولودِ شرفی: ابتدا اور پس منظر

مشایخِ فردوسیہ اور حضرت مخدومِ جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیریؒ کے اولین تذکروں میں مناقب الآصفیا صفِ اول میں شمار ہوتا ہے، جو فارسی زبان میں ان کے وصال کے تقریباً 60–70 برس بعد تحریر ہوا۔

لیکن جیسے جیسے تیرہویں صدی ہجری اختتام کو پہنچی، اہلِ علم نے محسوس کیا کہ اردو زبان میں سوانح و تذکرہ نگاری کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ اسی پس منظر میں تین عظیم تذکرے منظر عام پر آئے:

  1. مولود شرفی
  2. وسیلۂ شرف و ذریعۂ دولت
  3. سیرۃ الشرف

ان میں مولودِ شرفی کو اوّلیت حاصل ہے اور یہ سب سے پہلا First Urdu Biography ہے جو حضرت مخدومِ جہاں پر قلم بند ہوا۔


Maulood-e-Sharafi — پہلی اردو سوانحِ مخدومِ جہاں

یہ عظیم تذکرہ حضرت سید عطا حسین فانی منعمی دانا پوری ثم گیاوی (م 1311ھ) کی تصنیف ہے۔
یہ Makhdoom e Jahan پر تحریر کی گئی پہلی مستند اردو سوانح عمری ہے، جس میں:

  • حالاتِ زندگی
  • علمی خدمات
  • روحانی فیوض
  • ملفوظات کے اقتباسات
  • تاریخی روایات
    کا جامع ذکر کیا گیا ہے۔

مولودِ شرفی کے اصل نسخے:

  • خانقاہ منعمیہ ابوالعلائیہ، رام ساغر گیا میں محفوظ
  • ایک نقل خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ، پٹنہ سٹی میں موجود
    اسی نقل کی مدد سے یہ رسالہ سب سے پہلے 2003ھ میں انوارِ مخدوم میں دو قسطوں میں شائع ہوا۔
    اب پہلی بار اسے کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کی ترتیب پروفیسر احمد بدر نے انجام دی ہے۔

علمی و تاریخی اہمیت

Maulood-e-Sharafi کو مخدومِ جہاں کی سوانح نگاری میں بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔
اس کے مصادر میں شامل چند نادر تحریریں اب دستیاب نہیں رہیں، مثلاً:

  • اذکار الاولیاء — مؤلف: حضرت شاہ دانش علی ابوالعلائی (اب نایاب)

اس کے علاوہ:

  • حضرت رکن الدین عشق عظیم آبادی کی ایک اردو منقبت
  • حضرت شاہ حمیدالدین اوج کا فارسی قصیدہ
    بھی اس کے اندر محفوظ ہیں، جو اس کی ادبی اور تاریخی اہمیت کو دوچند کرتے ہیں۔

مولودِ شرفی کی ادبی قدر و قیمت

  • تذکرہ نگاری کا منظم اسلوب
  • مستند تاریخی بیانات
  • صوفیانہ روایت کا تسلسل
  • مخدومِ جہاں کی شخصیت کا جامع مدلل بیان

یہ رسالہ نہ صرف سیرتِ مخدومِ جہاں کا اولین اردو ماخذ ہے بلکہ Sufi historiography کا ایک نادر نمونہ بھی ہے۔

Maulood-e-Sharafi کیا ہے؟

یہ حضرت مخدومِ جہاں پر لکھی گئی پہلی اردو سوانح عمری (First Urdu Biography) ہے۔

اس کے مؤلف کون ہیں؟

حضرت سید شاہ عطا حسین فانی قمرالمنعمیؒ — مشہور عالم اور صوفی شیخ۔

مولودِ شرفی کی اہمیت کیا ہے؟

یہ Makhdoom e Jahan کی سوانح عمری کا سب سے قدیم اور معتبر ماخذ ہے۔

اس کے مخطوطے کہاں محفوظ ہیں؟

خانقاہ منعمیہ رام ساغر گیا اور خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ سٹی میں۔

کیا یہ پہلی بار کتابی شکل میں شائع ہو رہا ہے؟

جی ہاں، پہلی مرتبہ اسے باقاعدہ کتاب کی شکل میں شائع کیا جا رہا ہے۔

Maulood-e-Sharafi

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button