Uncategorized

Irshadul Mureedeen (ارشاد المریدین) Sheikh-Al-Shuyukh

Irshadul Mureedeen (ارشاد المریدین)

Irshadul Mureedeen (ارشاد المریدین)

شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر سہروردی کی علمی و روحانی عظمت

شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین عمر سہروردی علیہ الرحمہ (539ھ – 632ھ) تصوف و روحانیت کی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ کی شخصیت بھی مرجعِ اہلِ علم و عرفان ہے اور آپ کی تحریریں بھی۔

حضرت سہروردی کا نمایاں امتیاز یہ ہے کہ آپ سلسلہ سہروردیہ کے امام اور سرخیل ہیں۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف “عوارف المعارف” کو دنیائے تصوف کی مقبول ترین اور مستند کتاب مانا جاتا ہے۔

شیخ الشیوخ کی ذات علم و معرفت، شریعت و طریقت اور ظاہر و باطن کے حسین امتزاج کا پیکر ہے۔


ارشاد المریدین — تصوف کے اصول و اصطلاحات کا جامع ماخذ

Irshadul Mureedeen حضرت شیخ الشیوخ کی نہایت اہم تصنیف ہے جو تصوف کے اصول و قواعد اور اصطلاحاتِ تصوف پر مبنی ہے۔ یہ کتاب تصوف و احسان کا ایک جامع خلاصہ پیش کرتی ہے۔

یہ نادر متن 49 ابواب اور ایک فصل پر مشتمل ہے، جس میں علمِ تصوف کے تقریباً تمام بنیادی تصورات اور اصطلاحات کی تشریح کی گئی ہے۔ ہر باب مختصر ہونے کے باوجود جامع ہے اور روحانی مفہوم کو نہایت واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔

اگرچہ یہ کتاب اصطلاحاتِ تصوف کی شرح ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ احوال، آداب اور سلوکِ روحانی کی بھی مکمل وضاحت کرتی ہے۔


ارشاد المریدین اور عوارف المعارف کا تقابلی مطالعہ

جس طرح “عوارف المعارف” مریدین کی تربیت و رہنمائی کے لیے لکھی گئی، اسی طرح Irshadul Mureedeen میں بھی تدریس و تفہیم کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔

تاہم، عوارف المعارف کے مقابلے میں ارشاد المریدین میں تربیتِ مریدین پر زیادہ توجہ اور عملی پہلو زیادہ نمایاں ہے۔


کتاب کی ساخت اور مواد کی تقسیم

Irshadul Mureedeen کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  1. باب اول: حضرت شیخ الشیوخ کے احوال و آثار
  2. باب دوم: حضرت کے تصنیفی کارناموں کا تفصیلی بیان
  3. باب سوم: ارشاد المریدین کا تعارف، خطی نسخے، تدوین و ترجمہ پر تبصرہ

اس کے بعد کتاب میں:

  • عربی متن مع فہرست و اشاریہ (صفحات 244 تا 348)
  • اردو ترجمہ (صفحه 349 سے آگے) شامل ہے، جسے مولانا محب اللہ مصباحی منعمی نے نہایت خوبصورت انداز میں ترجمہ کیا ہے۔

کتاب کی تخریج اور تحقیق کا بیش قیمت کام بھی مولانا محب اللہ مصباحی صاحب نے انجام دیا ہے۔


مقدمہ اور علمی اہمیت

اس علمی خزانے کا مقدمہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی (سجادہ نشین خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ، پٹنہ سٹی) نے تحقیقی انداز میں تحریر فرمایا ہے۔

یہ مقدمہ نہ صرف کتاب کی علمی قدر و قیمت کو واضح کرتا ہے بلکہ Sheikh-Al-Shuyukh کے فکری و روحانی اثرات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

Syed Shah Shamimuddin Munemi کی تحقیق اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ کتاب تصوف کے ہر طالبِ علم کے لیے رہنمائی کا روشن مینار ہے۔

اس کتاب پر مقدمہ کس نے لکھا؟

“Irshadul Mureedeen” کس موضوع پر ہے؟

یہ کتاب تصوف کے اصول، اصطلاحات، اور سلوک و احسان کے مبادیات پر مبنی ایک جامع نصاب ہے۔

اس کے مصنف کون ہیں؟

اس کے مصنف شیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین عمر سہروردی علیہ الرحمہ ہیں، جو سلسلہ سہروردیہ کے امام ہیں۔

اردو ترجمہ کس نے کیا ہے؟

اردو ترجمہ مولانا محب اللہ مصباحی منعمی نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ انجام دیا ہے۔

اس کتاب پر مقدمہ کس نے لکھا؟

مقدمہ حضرت ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی نے تحقیقی اور علمی انداز میں تحریر فرمایا ہے۔

“Irshadul Mureedeen” کی علمی اہمیت کیا ہے؟

یہ کتاب تصوف و معرفت کی اصطلاحات کو سادہ اور جامع انداز میں سمجھاتی ہے، جو مریدین و سالکین کے لیے رہنمائی کا ایک معتبر ماخذ ہے۔

Irshadul Mureedeen (ارشاد المریدین)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button