Book

Khanqah Munemia خانقاہ منعمیہ – Copy

2000

Khanqah Munemia, Patna City, Bihar خانقاہ منعمیہ پٹنہ سیٹی، بہار

خانقاہ منعمیہ (Khanqah Munemia)

خانقاہ منعمیہ سےپہلی بار شائع ہونے والی چنداہم کتابیں

بہار کا دارالحکومت پٹنہ پاٹلی پتر کی ہی موجودہ شکل ہے جو قبل مسیح عالمی شہرت کا حامل رہ چکا ہے ۔ پٹنہ نے جہاں بدھ اور مہا بیر کی قدم بوسی کی ہے وہیں اس نے فاتح عالم سکندر کے فوج کے قدموں کی دھمک بھی سنی ہے۔ یہ وہی شہر ہے جس کی عظمت و رفعت کا قصیدہ یونانی سفیر میگاستھنیج پڑھتے ہوئے حیرت و استعجاب کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے ۔

یہ وہی پٹنہ ہے جس نے چندر گپت موریا کی شاہی ٹھاٹھ باٹھ دیکھا ہے اور اشوک کے بدن سے شاہی جوڑا اتر تے اور بدھ بھکشو کا لباس چڑھتے دیکھا ہے۔ عہد وسطی میں پٹنہ کی تجدید کاری اور اس کی عظمت رفتہ کی بازیابی کر ایک مرتبہ پھر اس کی شان و شوکت بحال کرنے میں مغل حکمراں شاہجہاں کی قابل قدر خدمات ہیں جس کے گورنر آصف خان نے سابقہ تاریخی بنیادوں پر ایک نئی عمارت کھڑی کرنے کی جدوجہد کی ۔

آصف خان نے جو ممتاز محل کی بڑی بہن ملکہ بانو کا شوہر تھا پٹنہ میں قلعہ بنایا، عیدگاہ اور بڑی بڑی مسجدیں تعمیر کرائی ۔ اس کے عہد میں بڑے بڑے علما ، دانشوران اورصوفیہ مختلف جگہوں سے پٹنہ آئے اور ہمیشہ کے لئے اس قرآن کریم کا نزول دنیا میں کئی قسم کے انقلابات کا محور بنا۔ قرآن کا آغاز قُل کے بجائے اِقرأ کہہ کر کیا گیا۔ اقرأ کہنے سے یہ بات صاف ہوگئی تھی کہ قرآن پڑھنے کی طرف مائل کر رہا ہے۔

پڑھنا، بولنا یا کہنا، ان میں بڑا فرق ہے۔ پڑھنے میں لکھنا چھپا ہوا ہے اور پڑھنے میں لکھے کو پڑھنا صاف صاف موجود ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے اسلامی عہد میں لکھنے اور پڑھنے کو دین بنا دیا۔ ساتھ ساتھ اس پرسے اجارہ داری کے خاتمے کا بھی اعلان کر دیا، یعنی پڑھنے کا حکم عام تھا اور اس حکم سے کوئی بھی الگ نہیں تھا۔

حضور ﷺ نے مدینہ پاک میں جب اپنے کام کو پوری تسلی اور تشفی کے ساتھ شروع کیا تو آپ کے کام کا انداز یہ تھا کہ آپ بارہا فرماتے کہ جو مجھ سے سنو اسے دوسروں تک پہنچاؤ۔ یعنی حضورﷺ نے اپنے زمانے میں نشر و اشاعت کے لیے ایک واضح اشارہ دے دیا تھا۔ یہی ممکن بھی تھا اور اس سے زیادہ کا، اس زمانے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اور یہ ایک ایساکام تھا جس میں آپ کے صحابہ الگ الگ اس کام میں لگ گئے تھے۔

جس طرح کوئی پریس ایک وقت میں 500یا 1000کتابیں شائع کر دیتا ہے اسی طرح آپ کے صحابہ حضور ﷺ کی باتوں کو، چاہے وہ قرآن کی شکل میں ہو یا حدیث کے رنگ میں، اسے دوسروں تک پہنچاتے، یعنی ہر صحابی حضور ﷺ کا ایک  ترجمان تھا، ایک نقیب تھا اور پھر ان سے بے شمار لوگوں تک یہ چیزیں پہنچتی تھیں۔ 

کوئی حکم جب ان کو سنایاجاتا تو گویا بے شمار لوگ بے شمار تک پہنچانے میں لگ جاتے تھے۔ یہ وہ نشر و اشاعت تھی جو حضور ﷺ کے دفتر کا خاصہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کے جانشیں، جنہیں ہم صحابہ، تا بعین، تبع تابعین، صوفیہ، مشایخ، اولیا، اصفیا، صادقین، صالحین یا ابرار وغیرہ کے ناموں سے جانتے ہیں، ان کے دفتر میں بھی،

جنہیں ہم خانقاہ کہیں، دائرہ کہیں، تکیہ کہیں، جماعت خانہ کہیں، رباط کہیں، وہ صفت پائی جاتی تھی کہ جب کوئی حضور ﷺ کی نیابت میں ان کی جگہ پر بیٹھ کر درس و تدریس، رشد و ہدایت اور تبلیغ و دعوت کا کام کرتا تو وہ بھی اسی طرح ارشاد فرماتا کہ مجھ سے سنی ہوئی باتوں کو دوسروں تک پہنچا دو۔

صوفیہ نے اس سلسلے میں ایک اور خاص بات اپنے طرز زندگی میں پیدا کی کہ اس بات کا امکان تھا کہ پہنچانے والا، ترسیل کرنے والا، تبلیغ کرنے والا معتبر ہوکہ نہ ہو، کچھ تحریف نہ ہو، کچھ ملاوٹ نہ ہوجائے، شاید یہی وجہ تھی کہ صوفیہ کے یہاں خلافت کا اجرا ہوا۔ ہر مرید کو یہ اجازت نہیں دی گئی کہ وہ دوسروں تک مرشد کے خیالات کو پہنچانے کے لیے ذمہ دار ہو بلکہ مریدوں میں سے چند کا انتخاب کیا گیا جو مرشد کے خلیفہ کہلائے،

یعنی اس بات کے ذمہ دار ہوئے کہ وہ اپنے مرشد کی باتوں کو پوری دیانت داری و ذمہ داری، کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ پھر ایک وقت آیا کہ اشاعت کی دنیا میں انقلاب آیا۔

کاغذ ایجاد ہوگیا اور طباعت کا میدان ہموار ہوا اور آج طباعت کی دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ اس انقلاب کوبھی صوفیہ و مشایخ اور، علمائے ربانیین نے اختیار کیا اور یہ جواز محسوس کیا کہ حضور ﷺ نے اپنے وقت میں نشر واشاعت کی اجازت دی تھی تو آج بھی اگر وقت کے مطابق نشر و اشاعت کو جاری رکھا جائے تو یہ عین اتباع سنت ہوگی۔ چنانچہ جہاں جہاں خانقاہیں بنیں وہاں وہاں کتب خانہ بھی بنا اور دار الاشاعت کی شکل بھی پیدا ہوئی۔

حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی﷫ کی مثال موجود ہے کہ جب آپ وعظ کہتے تو شروع میں درجنوں اور بعد میں سینکڑوں لوگ ایسے ہوتے جو قلم دوات لے کر بیٹھتے اور آپ کے مواعظ کو اپنے اپنے ظرف اور صلاحیت کے مطابق نقل کرتے اور جمع کرتے۔

آج آپ کے مواعظ کے جتنے بھی مجموعے ہیں وہ اسی ترکیب سے حاصل ہوئے ہیں، جنہیں ہم ملفوظات کہتے ہیں۔ شیخ شہاب الدین سہروردی﷫ کے بعد ہندوستان میں جن چشتی بزرگوں کا فیضان ہوا

اور جن سہروردی بزرگوں کا عروج ہوا، یہاں بھی ان بزرگوں کے ملفوظات جمع و نقل کیے گئے، ایک دوسرے کو مستعار دیے گئے اور نقل در نقل ہوتے ہوئے پھیلتے چلے گئے۔ انتہایہ کہ جب Printing pressقائم نہیں ہوا تھا تب بھی ان بزرگوں کے ملفوظات کے نسخے، دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئے، محفوظ کیے گئے اور آج بھی پائے جاتے ہیں۔

خانقاہیں ان ملفوظات کو عام کرنے، علمی خزانوں کو دوسروں تک پہنچانے میں یہ حکمت بھی پیش نظر رکھتی ہیں کہ  جو مرشد کے قریب بیٹھنے سے محروم ہے اسے بھی یہ شرف حاصل ہوجائے کہ وہ شیخ زمانہ اور شیخ وقت سے دور رہ کربھی ان کی تعلیمات سے فائدہ اٹھائے۔ چنانچہ چھوٹی، بڑی تمام خانقاہوں میں یہ دستور رہا کہ اچھی باتوں کی تنشیر، تبلیغ اور اشاعت کا سلسلہ جاری رہا۔

خانقاہ منعمیہ، جو حضرت سیدنا مخدوم محمد منعم پاکباز قُدِّسَ سِرُّہُ  کی بارگاہ نبوت سے اجازت اور بشارت کے نتیجے میں شہر پٹنہ کے قلب میں قائم ہوئی، اس خانقاہ میں بھی حضرت سیدنا مخدوم منعم پاکباز کے دور سے ہی باضابطہ درس و تدریس اور رشد و ہدایت کا سلسلہ قائم رہا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے حکم سے مخدوم منعم پاکباز جب یہاں آئے تو آپ کو ایک ایسی قبولیت و مقبولیت حاصل ہوئی کہ علمی و عرفانی دنیا آپ کے گرد اسی طرح سمٹ آئی جیسے نمی کے گرد ہریالی سمٹ آتی ہے۔ سیدنا مخدوم منعم پاکباز کی صحبتوں میں دنیا کی باتیں کم اور دین و عرفان اور احسان کی باتیں شب وروز ہوا کرتی تھیں۔ سلوک کی منزلوں کی گرہوں کو کھولا جاتا،

اشکال کو دور کیا جاتا، روایت سے رویت کا سفر طے کرایا جاتا تھا اور اس کے نتیجے میں نئی بحثیں جنم لیتیں، اور ان بحثوں کا علمی و عرفانی تدارک کیا جاتا تھا۔ حضرت کے بعد بھی خانقاہ منعمیہ کے جو سجادہ نشینان ہوتے رہے وہ سب علم دوست، علم پرور و صاحب علم ہوئے۔ سب کے دور میں اپنے اپنے زمانے کے مطابق علمی، عرفانی، تحقیقی و تربیتی کام کم وبیش جاری رہا۔ آج خانقاہ منعمیہ میں اس حوالے سے جو پیش رفت ہورہی ہے اور جس طرح کے تحقیقی کام یہاں جاری ہیں وہ یقینا علمی دنیا کے لئے بے حد  سودمند ہیں۔ ان میں سے چند کا تعارف پیش ہے:

خانقاہ منعمیہ اہم کتابیں (Khanqah Munemia)

  • فائض البرکات (Faiz al-Barakat) – ملفوظات حضرت خواجہ سید شاہ ابوالبرکات، جامع: اعلیٰ حضرت سید شاہ قمرالدین حسین۔ خانقاہ منعمیہ (Khanqah Munemia) سے 2000ء میں شائع ہوا۔
  • مجموعہ رسائل (Majmua Rasail) – حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ولی تراش، تحقیق: ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی. خانقاہ منعمیہ (Khanqah Munemia) سے 2024ء میں شائع ہوا۔
  • جلال و جمال کی نیرنگیاں (Jalal o Jamal ki Nairangiyan) – حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ ولی تراش. خانقاہ منعمیہ (Khanqah Munemia) سے 2024ء میں شائع ہوا۔
  • ارشاد المریدین (Irshad al-Murideen) – شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر شہروردی. خانقاہ منعمیہ (Khanqah Munemia) سے 2024ء میں شائع ہوا۔
  • تاریخ صوفیائے بہار (Tareekh Sufiya-e-Bihar) – ڈاکٹر سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی. خانقاہ منعمیہ (Khanqah Munemia) سے 2020ء میں شائع ہوا۔
  • کنز المعانی (Kanz al-Ma’ani)
  • مخ المعانی (Mukh al-Ma’ani)
  • مغز المعانی (Maghz al-Ma’ani)
  • اسباب نجات (Asbab Najat)
  • اوراد شرفی (Awrad Sharafi) – حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری
  • ملفوظات رکنیہ (Malfuzat Rukniya) – حضرت شیخ رکن الدین شطاری جندہوی
  • گنج لایفنیٰ (Ganj Laifna) – حضرت مخدوم حسین بلخی
  • مظہر الاسرار (Mazhar al-Asrar) – حکیم شاہ فرحت اللہ حسن دوست کریم چکی
  • اسرار قمریہ (Asrar Qamariya) – اعلیٰ حضرت میر سید شاہ قمرالدین حسن منعمی عظیم آبادی
  • اخبار الاولیا (Akhbar al-Awliya) – قاضی محمد اسمعیل قدیمی
  • شورش عشق (Shorish-e-Ishq) – حضرت خواجہ شاہ رکن الدین عشقؔ عظیم آبادی
  • تحقیق الاضابیر فی سماع المزامیر (Tahqiq al-Azabeer fi Sama’ al-Mazameer) – حضرت علامہ سید شاہ عبدالحئی
  • خانقاہ منعمیہ ایک پریچے (Khanqah Munemia Ek Pariche) – محمد آصف احمد
  • فلسفہ روح اور مخدوم جہاں (Falsafa-e-Rooh aur Makhdum Jahan) – ڈاکٹر اشرف بہار
  • مولود شرفی (Mawlood Sharafi) – سید المحققین سید شاہ عطا حسین فانی
  • القول المنیر فی جواز السماع بالمزامیر (al-Qaul al-Muneer fi Jawaz al-Sama’ bi al-Mazameer) – علامہ سید شاہ غلام قادر اصدقی چشتی
  • نغمۂ اسرار (Naghmah-e-Asrar) – مولانا سید شاہ غلام حسن منعمی رائے پوری
  • نکات نشق فصوص (Nukat Nashq Fusūs) – شیخ جہاں مخدوم شاہ محمد منعم پاک
  • اسرار الصلوۃ و رسالہ مرشدیہ (Asrar al-Salat wa Risalah Murshidiya) – حکیم شاہ فرحت اللہ حسن دوست کریم چکی
  • حجۃ العارفین (Hujjat al-‘Arifeen) – حضرت شاہ حیات اللہ حسنی المنعمی ابوالعلائی
  • اخلاق نبوی و محاسن مصطفوی (Akhlaq Nabawi wa Mahasin Mustafa) – مخدوم حسین بن معز نوشہ توحید بلخی
  • An Introduction to Khanqah Munemia: Abode of Spirituality & Harmony – محمد آصف احمد
  • خانقاہ منعمیہ کی اہم کتابیں (Khanqah Munemia)

خانقاہ منعمیہ اہم کتابیں کی تصاویر (Khanqah Munemia)

خانقاہ منعمہ (Khanqah Munemia) سے شائع ہونے والی یہ کتابیں صرف روحانیت اور تصوف کے بے مثال خزانے نہیں بلکہ اسلامی فکر، اخلاق، اور معرفت کے علوم کا قیمتی ذخیرہ بھی ہیں۔

ہر کتاب میں علم و حکمت، تصوف کے اصول، اور سالکین کے لیے عملی رہنمائی موجود ہے۔

یہ نسخے نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ روحانی تربیت کے طلبگاروں کے لیے عملی اور فکری رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔

ہر کتاب کی تدوین میں اولیاء اللہ کے تجربات، اخلاقی تربیت، اور قلبی کمالات کی روشنی نظر آتی ہے، جو قارئین کو علمی بصیرت اور روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔

یہ کتابیں مختلف صوفیائے کرام کے ملفوظات، مکتوبات، اور ارشادات پر مشتمل ہیں، جو قرون وسطیٰ سے لے کر موجودہ دور تک روحانی تعلیم کا معتبر ذریعہ رہی ہیں۔ یہاں موجود نسخے دیگر جگہوں پر دستیاب نہیں،

اس لیے خانقاہ منعمیہ (Khanqah Munemia) کا یہ علمی و روحانی خزانہ ایک نایاب اور قیمتی سرمایہ شمار ہوتا ہے۔ ہر صفحہ، ہر باب اور ہر مجلس میں سالکین کو باطنی سکون،

معرفت کی راہنمائی، اور روحانی کمالات کی تعلیم ملتی ہے، جو کسی عام علمی کتاب میں ممکن نہیں۔

مزید یہ کہ یہ کتابیں صرف مکتوبی یا علمی مواد تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عملی تصوف، مراقبہ، اور روحانی تربیت کے طریقے بھی واضح کرتی ہیں۔ ہر طالبِ سلوک، خواہ عام قارئین ہوں یا خانقاہ کے مرید،

(Khanqah munemia) ان کتابوں کے مطالعے سے اپنے باطنی حالات کی تفہیم اور اصلاح میں مدد حاصل کرتے ہیں۔ اس لیے خانقاہ منعمیہ کی شائع کردہ یہ کتابیں روحانی رہنمائی، فکری روشنی، اور تصوف کے عملی اصولوں کا ایک مکمل ذخیرہ تصور کی جاتی ہیں۔

(Khanqah munemia) خانقاہ منعمیہ کی ایک کتاب کی تصویر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also
Close
Back to top button